مجھے یقین ہوگیا تھا یہ بات اب یہاں تک رکے گی نہیں، ضرور کچھہ دیر بعد جب ناصر آئے گا تو ایک نیا محاظ کھلے گا۔ جس میں راحیلہ یعنی ناصر کی شریک حیات کے بارے میں شکایات کے نئے دفاتر رقم کئے جائیں گے۔
اس سارے معاملے میں ابھی تک مجھے راحیلہ کا بحیثیت ایک ماں، بہو اور بیوی تینوں ہی صورتوں میں کوئی دوش نظر نہیں آرہا تھا، اگر کسی کا دوش ہوتا بھی تو وہ شائد وہ ڈاکٹر ہوگا، جس نے راحیلہ کے بچے کی بہتر صحت کے لئے ایک مشورہ دے دیا تھا اور جسے راحیلہ ایک ماں کا دل رکھنے کی بدولت ماننے پر مجبور بھی تھی، اور یہ مشورہ کچھہ ایسا غلط بھی نہیں تھا کیونکہ موجودہ ریسرچ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پہلے چھہ ماہ بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی ہر چیز مہیا کرتا ہے اور کوئی بھی چیز اس کے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ مگر جناب وہی ایک عمومی سوچ۔۔۔ یعنی اگر ہمارے معاشرے میں کمی ہے تو ان غوطہ خوروں کی کہ جو جب کسی مسئلے میں الجھیں تو معاملے کی تہہ میں غوطہ لگا کر اس کی سچائی کو جان سکیں۔ یہاں بھی یہی ہوتا دکھائی دے رہا تھا، کیوں کہ راحیلہ بہو تھی، اور وہ بھی اس معاشرے کی جس میں بہو کو قابل تذلیل سمجھنا اور سدا مطعون رکھنا محظ ایک عام سی بات ہے بلکہ بعض خاندانوں میں تو اسے بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا ہے، اور گھر والوں کی جانب سے لڑکوں کو اس روئیے کی تلقین کی جاتی ہے۔
کچھہ دیر سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شائد یہ اس جوائنٹ فیملی سسٹم کا قصور ہے، جس کی وجہ سے کسی شخص کی زندگی میں آنے والی ایک لڑکی جو اپنا گھر بار سب چھوڑ کر آتی ہے، اسے صرف اس شخص کے مزاج ہی کو سمجھنا یا اس شخص کی کچھہ عادتوں اور کچھہ چیزوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا ہوتا بلکہ، اسے تو اس گھر میں موجود ہر فرد کے مزاج کو سمجھنا اور اس فرد کے مزاج اور خوشی کی خاطر اپنی بہت سی سوچوں اور خواہشوں کو قربان کرنا پڑتا ہے۔
بس اسی لمحے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں یہ جاننے کی کوشش ضرور کروں گا کہ کیا واقعی میرا سوچنا سہی ہے کہ یہ جوائنٹ فیملی سسٹم ان تمام مسائل کی جڑ اور سرے سے غلط ہی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی سوچ اور ارادے کے تحت تھوڑی تحقیق کی اور چند تحفظات، محسوسات اور آراء کی روشنی میں کچھہ نقاط پر پہنچا جو آگے آنے والی سطور میں آپ کی فکر کی نظر کر رہا ہوں، امید ہے کسی بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔۔۔۔