Search This Blog

Sunday, October 17, 2010

پتا ہے میں کون ہوں؟؟

یار پتا نہیں بچپن سے جب بڑا ہوا تو کس نے مجھے فلسفی حضرات کی کتابیں پڑھنے کا شوق لگا دیا۔۔۔ ایک مشترک بات جو مجھے ان تمام فلسفیوں میں لگی وہ یہ کہ وہ سب کہ سب خود اپنے آپ کو پہچاننے سے انکاری تھے۔ شروع شروع میں تو یہ بات بڑی عجیب سی اور کبھی کبھی ان فلسفی حضرات کی کوئی بڑک ہی دکھائی دیتی تھی مگر وقت کے ساتھہ ساتھہ جب دنیا نے اپنے رنگ و روپ میرے سامنے عیاں کرنے شروع کیے، اور اس کے ساتھہ ساتھہ انسان کے مختلف روپ میرے سامنے آنا شروع ہوئے تب اندازہ ہوا کہ واقعی میرا اپنا آپ جو دراصل میرے اردگرد پھیلے ہزاروں انسانوں کا ہی ایک روپ ہے، اسے سمجھنا واقعی ایک مشکل کام ہے، بلکہ کئ بار تو یہ کام ناممکن دکھائ دیا۔ میں نے جتنا زیادہ اپنے آپ کو، اور پھر اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے اس انسانوں کے سمندر کے بیچ پھرتی مختلف اقسام کی حیات کو جاننے کی کوشش کی میں اتنا ہی مخمصے اور بے چینی کا شکار ہوتا چلا گیا۔ ویسے اگر کسی چھوٹے سے قصے سے انسان کے عجیب ہونے کو ثابت کرنا ہو تو مجھے شیخ سعدی علیہ الرحمہ کا تحریر کیا ہوا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔
انھوں نے لکھا :
ایک لکڑھارا روزانہ ایک جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جایا کرتا تھا، اسی جنگل میں ایک اور بھی عجیب و غریب مخلوق رہتی تھی، جو بظاہر تو کچھ کچھ انسانوں جیسی دکھتی تھی مگر مزاج اور دیگر تمام چیزوں میں انسانوں سے بالکل مختلف تھی۔ اسی مخلوق میں سے ایک فرد، اس لکڑھارے کو اکثر دیکھا کرتا تھا اور اس کی ایک ایک حرکات و سکنات کو بغور مطالعہ کیا کرتا تھا۔
ایک روز وہ لکڑھارا لکڑیاں کاٹ چکا تو اسے بھوک کا احساس ہوا۔ اس نے پتھروں سے ایک چولھا بنایا، اور اس پر برتن رکھ کر پانی گرم کرنے لگا، پھر اپنے تھیلے سے نکال کر اس میں چند آلو ڈال دیئے۔ جب وہ آلو ابل گئے تو لکڑھارے نے انھیں باہر نکال لیا۔ قریب ہی اس جنگلی مخلوق سے تعلق رکھنےوالا وہ فرد بھی چھپا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کے لکڑہارے نے آلو نکالنے کے بعد ان پر بھونکیں مارنا شروع کردیں ، اس مخلوق سے رہا نہیں گیا وہ سوچنے لگا آج میں اس سے پوچھ کر رہوں گا کہ وہ ان آلووں پر پھونکیں کیوں مار رہا ہے۔ اس نے اچانک سامنے آکر اپنا سوال لکڑہارےسے کر ہی دیا۔ لکڑہارا پہلے تو تھوڑا گھبرایا، مگر پھر جی مضبوط کر کے بولا۔۔۔ آلو گرم ہیں، انھیں ٹھنڈا کررہا ہوں۔ مخلوق نے پوچھا، پھونک مارنے سےچیز ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ لکڑہارے نے کہاں ہاں۔۔۔
وہ مخلوق لکڑہارے کے سامنے سے چلی گئی مگر اس کا تجسس ابھی برقرار تھا، اسی لئے وہ وہیں چھپ گیا۔ کھانا کھانے کے بعد لکڑہارے کو سردی کا احساس ہوا۔ اس نے پہلے ایک چادر اوڑھ لی ، مگر جب سردی کا احساس کچھ اور بڑھا تو اس نے اپنے ہاتھوں پر پھونکیں مارنا شروع کردیں۔ وہ مخلوق جو قریب میں ہی چھپی یہ سب دیکھ رہی تھی اس نے سوچا اب یہ اپنے ہاتھوں کو پھونک کیوں مار رہا ہے؟؟؟ کچھ سمجھ نہ آیا تو پھر رہا نا گیا، اور پھر پوچھنے کے لئے نکل آیا۔۔۔ "اب اپنے ہاتھوں کو کیوں پھونکیں مار رہے ہو، کیا یہ بھی بہت گرم ہو گئے ہیں؟؟؟ لکڑھارا بولا ارے نہیں یار، مجھے سردی لگ رہی ہے، میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو رہے ہیں، انھیں پھونکوں سے گرم کر رہا ہوں۔۔۔ اس مخلوق نے جو یہ بات سنی تو بوکھلا گئی، باپ رے یہ کیسی مخلوق ہے، اسی سے ٹھنڈا کرتی ہے اسی سے گرم ۔۔۔ اس سے بچ کر ہی رہا جائے تو بھلا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment