چند دن پہلے کی بات ہے میرا اپنے ایک عزیز کےگھر جانا ہوا، میں ان کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا جب ان صاحب کی والدہ ان صاحب کے بیٹے یعنی اپنے پوتے کو پڑے پیار سے اپنی گود میں لئے بیٹھی تھیں، بچہ کچھ دیر سے رونا شروع ہوگیا تھا۔ دادی نے آواز لگائی۔۔۔ راحیلہ بیٹی [یعنی بچے کی ماں اور ان کی بہو] ذرا فیڈر میں صاف پانی تو بھر کر لے آنا، شائد منا پیاسا ہورہا ہے، لگتا ہے تم نے تو نہ جانے کب سے اسے پانی نہیں دیا۔۔۔ راحیلہ کمرے میں داخل ہوئی، تو اس کے ہاتھ میں فیڈر یا پانی کا کوئی اور برتن نہ پاکر راحیلہ کی ساس صاحبہ قدرے برھم ہو کر مگر میرا لحاظ کرتے ہوئے ذرا دھیمے لہجے میں مخاطب ہوئیں، تم پانی کیوں نہیں لائیں، دیکھ نہیں رہی ہو منا پیاس سے بلک رہا ہے، راحیلہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا، امی ڈاکٹر نے منع کیا ہے کہ منے کو چھہ مہینے تک صرف ماں کے دودھ پرہی رکھنا ہے، اور اس کے علاوہ کچھہ اور نہیں دینا۔۔۔ یہ سن کر اماں اور آگ بگولہ ہوگئیں، اور کہنے لگیں یہ موئے ڈاکٹر کیا جانیں، پہلے بھی اس کی پیدائش پر تم نے اور ناصر نے مجھے اسے گھٹی بھی نہ پلانے دی تھی نہ جانے ننھی سی جان کے پیٹ میں کون کوں سے جراثیم رہ گئے ہوں گے، اب کیا یہ ڈاکٹر اور تم کل کے لونڈے لونڈیاں ہمیں بچے پالنا سکھاو گے۔ راحیلہ نے انتہائی احترام سے سمجھانے کی کوشش کی مگر ہر کوشش کے بعد اماں کا پارہ تھوڑا اور ہی بڑھ جاتا۔۔۔ بالآخر میں نے دیکھا کے راحیلہ خفت کے انداز میں روہانسی سی ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی، مگر اماں اب بھی اس کی قابلیت پر شک کے حملے کرنے میں لگی ہوئی تھیں، اتنے میں اچانک مازیہ یعنی راحیلہ کی نند صاحبہ بھی آگئیں، انھیں اندازہ ہوچکا تھا کے کس کی ڈائری کھلی ہوئی ہے، بس انھون نے بھی زیادہ نہیں چلتے چلتے اتنا پھندنا لگا دیا، ارے اماں چھوڑو بھی تم کو تو پتا ہی ہے، بھابھی اپنے انگریزی پن کے آگے ہم لوگوں کو گھاس ہی کہاں ڈالتیں ہیں، آپ بھی بس فضول کی کوششوں میں لگی رہتی ہیں٫
مجھے یقین ہوگیا تھا یہ بات اب یہاں تک رکے گی نہیں، ضرور کچھہ دیر بعد جب ناصر آئے گا تو ایک نیا محاظ کھلے گا۔ جس میں راحیلہ یعنی ناصر کی شریک حیات کے بارے میں شکایات کے نئے دفاتر رقم کئے جائیں گے۔
اس سارے معاملے میں ابھی تک مجھے راحیلہ کا بحیثیت ایک ماں، بہو اور بیوی تینوں ہی صورتوں میں کوئی دوش نظر نہیں آرہا تھا، اگر کسی کا دوش ہوتا بھی تو وہ شائد وہ ڈاکٹر ہوگا، جس نے راحیلہ کے بچے کی بہتر صحت کے لئے ایک مشورہ دے دیا تھا اور جسے راحیلہ ایک ماں کا دل رکھنے کی بدولت ماننے پر مجبور بھی تھی، اور یہ مشورہ کچھہ ایسا غلط بھی نہیں تھا کیونکہ موجودہ ریسرچ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پہلے چھہ ماہ بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی ہر چیز مہیا کرتا ہے اور کوئی بھی چیز اس کے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ مگر جناب وہی ایک عمومی سوچ۔۔۔ یعنی اگر ہمارے معاشرے میں کمی ہے تو ان غوطہ خوروں کی کہ جو جب کسی مسئلے میں الجھیں تو معاملے کی تہہ میں غوطہ لگا کر اس کی سچائی کو جان سکیں۔ یہاں بھی یہی ہوتا دکھائی دے رہا تھا، کیوں کہ راحیلہ بہو تھی، اور وہ بھی اس معاشرے کی جس میں بہو کو قابل تذلیل سمجھنا اور سدا مطعون رکھنا محظ ایک عام سی بات ہے بلکہ بعض خاندانوں میں تو اسے بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا ہے، اور گھر والوں کی جانب سے لڑکوں کو اس روئیے کی تلقین کی جاتی ہے۔
کچھہ دیر سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شائد یہ اس جوائنٹ فیملی سسٹم کا قصور ہے، جس کی وجہ سے کسی شخص کی زندگی میں آنے والی ایک لڑکی جو اپنا گھر بار سب چھوڑ کر آتی ہے، اسے صرف اس شخص کے مزاج ہی کو سمجھنا یا اس شخص کی کچھہ عادتوں اور کچھہ چیزوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا ہوتا بلکہ، اسے تو اس گھر میں موجود ہر فرد کے مزاج کو سمجھنا اور اس فرد کے مزاج اور خوشی کی خاطر اپنی بہت سی سوچوں اور خواہشوں کو قربان کرنا پڑتا ہے۔
بس اسی لمحے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں یہ جاننے کی کوشش ضرور کروں گا کہ کیا واقعی میرا سوچنا سہی ہے کہ یہ جوائنٹ فیملی سسٹم ان تمام مسائل کی جڑ اور سرے سے غلط ہی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی سوچ اور ارادے کے تحت تھوڑی تحقیق کی اور چند تحفظات، محسوسات اور آراء کی روشنی میں کچھہ نقاط پر پہنچا جو آگے آنے والی سطور میں آپ کی فکر کی نظر کر رہا ہوں، امید ہے کسی بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔۔۔۔
مجھے یقین ہوگیا تھا یہ بات اب یہاں تک رکے گی نہیں، ضرور کچھہ دیر بعد جب ناصر آئے گا تو ایک نیا محاظ کھلے گا۔ جس میں راحیلہ یعنی ناصر کی شریک حیات کے بارے میں شکایات کے نئے دفاتر رقم کئے جائیں گے۔
اس سارے معاملے میں ابھی تک مجھے راحیلہ کا بحیثیت ایک ماں، بہو اور بیوی تینوں ہی صورتوں میں کوئی دوش نظر نہیں آرہا تھا، اگر کسی کا دوش ہوتا بھی تو وہ شائد وہ ڈاکٹر ہوگا، جس نے راحیلہ کے بچے کی بہتر صحت کے لئے ایک مشورہ دے دیا تھا اور جسے راحیلہ ایک ماں کا دل رکھنے کی بدولت ماننے پر مجبور بھی تھی، اور یہ مشورہ کچھہ ایسا غلط بھی نہیں تھا کیونکہ موجودہ ریسرچ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ پہلے چھہ ماہ بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی ہر چیز مہیا کرتا ہے اور کوئی بھی چیز اس کے لئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ مگر جناب وہی ایک عمومی سوچ۔۔۔ یعنی اگر ہمارے معاشرے میں کمی ہے تو ان غوطہ خوروں کی کہ جو جب کسی مسئلے میں الجھیں تو معاملے کی تہہ میں غوطہ لگا کر اس کی سچائی کو جان سکیں۔ یہاں بھی یہی ہوتا دکھائی دے رہا تھا، کیوں کہ راحیلہ بہو تھی، اور وہ بھی اس معاشرے کی جس میں بہو کو قابل تذلیل سمجھنا اور سدا مطعون رکھنا محظ ایک عام سی بات ہے بلکہ بعض خاندانوں میں تو اسے بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا ہے، اور گھر والوں کی جانب سے لڑکوں کو اس روئیے کی تلقین کی جاتی ہے۔
کچھہ دیر سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ شائد یہ اس جوائنٹ فیملی سسٹم کا قصور ہے، جس کی وجہ سے کسی شخص کی زندگی میں آنے والی ایک لڑکی جو اپنا گھر بار سب چھوڑ کر آتی ہے، اسے صرف اس شخص کے مزاج ہی کو سمجھنا یا اس شخص کی کچھہ عادتوں اور کچھہ چیزوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا ہوتا بلکہ، اسے تو اس گھر میں موجود ہر فرد کے مزاج کو سمجھنا اور اس فرد کے مزاج اور خوشی کی خاطر اپنی بہت سی سوچوں اور خواہشوں کو قربان کرنا پڑتا ہے۔
بس اسی لمحے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں یہ جاننے کی کوشش ضرور کروں گا کہ کیا واقعی میرا سوچنا سہی ہے کہ یہ جوائنٹ فیملی سسٹم ان تمام مسائل کی جڑ اور سرے سے غلط ہی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی سوچ اور ارادے کے تحت تھوڑی تحقیق کی اور چند تحفظات، محسوسات اور آراء کی روشنی میں کچھہ نقاط پر پہنچا جو آگے آنے والی سطور میں آپ کی فکر کی نظر کر رہا ہوں، امید ہے کسی بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment