میرے وطن کے مفلس بچے، مجھہ کو روز رلاتے ہیں۔۔۔
دن بھربھوکے رہتے ہیں، پھررات یونہی سو جاتے ہیں۔۔۔
ان کو پتا کیا کونسی گاڑی اندر کیسی دکھتی ہے۔۔۔
یہ تو بس گاڑی کے نیچے آ آ کر مر جاتے ہیں۔۔۔
میرے ملک کے یہ زردارے عیش کی نیند جو سوتے ہیں۔۔۔
کچھ ننگے بچے بھوک کی خاطر کوڑے میں گھس جاتے ہیں۔۔۔
کیسا ستم ہے رضوی بھی اس سسٹم کا اک حصہ ہے۔۔۔۔
یہ اور ایسے کئی خیال بس خون کے گھونٹ پلاتے ہیں۔۔۔
No comments:
Post a Comment