Search This Blog

Tuesday, November 9, 2010

میرے وطن کے مفلس بچے، مجھہ کو روز رلاتے ہیں۔۔۔
دن بھربھوکے رہتے ہیں، پھررات یونہی سو جاتے ہیں۔۔۔
ان کو پتا کیا کونسی گاڑی اندر کیسی دکھتی ہے۔۔۔
یہ تو بس گاڑی کے نیچے آ آ کر مر جاتے ہیں۔۔۔
میرے ملک کے یہ زردارے عیش کی نیند جو سوتے ہیں۔۔۔
کچھ ننگے بچے بھوک کی خاطر کوڑے میں گھس جاتے ہیں۔۔۔
کیسا ستم ہے رضوی بھی اس سسٹم کا اک حصہ ہے۔۔۔۔
یہ اور ایسے کئی خیال بس خون کے گھونٹ پلاتے ہیں۔۔۔

Tuesday, November 2, 2010

غم کی دکان درد کا ساماں لئے رہے۔۔۔
تم دل میں اپنے کون سا طوفاں لئے رہے۔۔۔
ہم تو تھے قربتوں کے بہانوں کی کھوج میں۔۔۔
تم ہم سے دور رہنے کا ارماں لئے رہے...

آنسو کا قطرہ

پیمبر دل کا ہے آنسو کا قطرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آنکھوں میں بھلا کب ٹک سکے گا

جو باہر یہ نہیں آیا تو سمجھو۔۔۔
نہ حالِ دل کسی پر کھل سکے گا